This article published in Telegraph UK (http://www.telegraph.co.uk/opinion/main.jhtml?xml=/opinion/2007/11/09/dl0902.xml)
Despite George W Bush’s rhetoric about freedom, the struggle against terrorism is provoking a reaction familiar from the Cold War and nowhere is that clearer than over Pakistan.
In the old parlance, General Pervez Musharraf is “our sonofabitch”. He has failed to stamp out extremist groups and close the madrassas that inspire them. He has allowed the tribal areas bordering Afghanistan to fall into the hands of assorted jihadis. And he has sacked independent-minded judges for fear that the Supreme Court declare illegal his re-election as president last month.
Yet, despite this combination of incompetence and brutality, America and Britain continue to back him as head of what has a strong claim to be the most dangerous country in the world.
In order to broaden the government’s political base, their plan is for the general to doff his army uniform later this month and enter into a power-sharing arrangement with Benazir Bhutto, leader of the Pakistan People’s Party, after general elections in February.
If that ever comes to pass, it will bring together a soldier whose popularity has plummeted and a politician whose standing has been undermined by her willingness to cut a deal with him. And the prospects for its lasting are slim: Miss Bhutto and the military are like oil and water.
In short, the relationship between Gen Musharraf and the West is bankrupt. Valued as an ally after 9/11, he is now part of the problem. Under his dictatorship, Pakistan has become an increasingly ungovernable country in which moderate, secular forces have been sidelined to the advantage of the Islamists.
An alternative – an alliance between General Ashfaq Pervez Kiyani, the army chief designate, and Miss Bhutto’s secular rival, Nawaz Sharif – seems neither imminent nor especially enticing. But that should not blind Britain and America to the fact that their “sonofabitch” in Pakistan is a spent force.
وابزادہ لیاقت علی خان
وزیراعظم لیاقت علی خان قائداعظم کی وفات کے بعد مسلم لیگ کے طاقتور ترین لیڈر کے طور پر ابھرے۔ ان کے دور میں گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین تھے جو طبعََا کمزور تھے اس لئے لیاقت علی خان طاقت کے مرکز بن گئے۔ وہ مسلم لیگ کے صدر بھی تھے اور وزیراعظم بھی۔ ان کے دور میں صوبائی انتخاب ہوئے جن میں حزب اختلاف کو بہت کم سٹیں ملیں۔ اپنے سیاسی مخالفین کو نااہل کرنے کے لئے پروڈا کا قانون بنایا گیا۔ لیاقت علی خان کا احترام بھی بہت تھا لیکن اقتدار کی مرکزیت کے نقصانات اپنی جگہ تھے۔ لیاقت علی خان کا زمانہ شرافت کا دور تھا، اس لئے حالات میں زیادہ بگاڑ نہ ہوا۔ لیاقت علی خان طاقتور ترین حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں، انہیں لیاقت باغ کے جلسہ عام میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔
ایوب خان
لیاقت علی خان کے بعد آنے والے حکمرانوں غلام محمد اور سکندر مرزا کی اقتدار کی مدت کم تھی۔ لیاقت علی خان کے بعد ایوب خان مارشل لاء کی صورت میں طاقتور ترین حکمران بنے۔ انہوں نے ملک میں پارلیمانی نظام کا خاتمہ کر کے صدارتی نظام نافذ کر دیا، بنیادی جمہوریتوں کا نظام نافذ کیا اور صدارتی انتخاب میں محترمہ فاطمہ جناح کو ہرا دیا۔ صدر ایوب کے دور میں ان کی ذات میں طاقت کا ارتکاز اس قدر تھا کہ انہیں ‘‘لائل پور کا گھنٹہ گھر‘‘ کہا جاتا تھا کیونکہ ہر بازار اسی میں کھلتا تھا۔ ایوب خان کے زمانے میں ایبڈو کا قانون بنا۔ جس میں ہزاروں سیاسی کارکنوں اور سہروردی، دولتانہ اور ممدوٹ جیسے رہنماؤں کو ایبڈو کر دیا گیا۔ اکثر سیاسی رہنما سیاست سے لا تعلق ہو گئے۔
صدر ایوب اپنے پرتشدد اختتام سے اس لئے بچ گئے کہ انہوں نے خود ہی گول میز کانفرنس بلا کر اپنے کئے گئے اقدامات کی نفی کر دی اور صدارت کی جگہ پارلیمانی نظام کے نفاظ پر رضا مندی ظاہر کر دی۔ اس طرح صدر ایوب جیسا طاقتور حکمران بھی بالآخر صدر یحیٰی کے مارشل لاء کی صورت میں رخصت ہوا۔
ذوالفقار علی بھٹو
ذوالفقار علی بھٹونے پاکستان کا ایک بازو مشرقی پاکستان الگ ہونے کے بعد اقتدار سنبھالا۔ انہوں نے ملک کو 1973ء کا آئین دیا اور ملک ملک بھر میں ہر شعبے میں اصلاحات کیں لیکن انہوں نے پے در پے آئینی ترامیم کر کے عدلیہ کی آزادی محدود کر دی، پھر اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ ان کا رویہ ہر لحاظ سے غیر جمہوری تھا۔ ملک میں ایک طاقتور پارٹی کے قیام کے باوجود بھٹو اپنے چند انتہا پسندانہ واقعات کی وجہ سے غلط سمت میں بڑھتے رہے۔ 1977ء کے انتخاب میں وہ آسانی کے ساتھ سادہ اکثریت سے جیت سکتے تھے لیکن چند شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں نے دھاندلی کر کے سارے انتخابی عمل کو مشکوک کر دیا۔ اس دھاندلی کے نتیجے میں احتجاجی تحریک نے جنم لیا جس کے دوران مارشل لاء نافذ ہو گیا اور پھر بالآخر نواب محمد احمد خان قتل کیس میں بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔
ضیاءالحق
ذوالفقار علی بھٹو کے بعد جنرل ضیاءالحق بلا شرکت غیرے گیارہ سال تک پاکستان کے حکمران رہے۔ انہوں نے بھٹو کو سیاسی منظر سے ہٹانے کے لئے ہر حربہ اختیار کیا۔ سیاسی کارکنوں کو کوڑے مارےگئے، اخبارات پر سنسر شپ نافذ رہی، سیاسی مخالفین جیلوں میں بند رہے، عدلیہ کی آزادی محدود رہی۔
جنرل ضیاءالحق نے 1985ء میں غیر جماعتی انتخاب کروائے اور محمد خان جونیجو کو وزیراعظم بنا کر مسلم لیگ کو تشکیل دیا گیا۔ بعدازاں جنرل ضیاءالحق نے جونیجو حکومت اور اسمبلیاں توڑ کر پھر سے نئے انتخاب کروانے کا اعلان کر دیا۔
جنرل ضیاءالحق کے دور میں افغانستان میں افغان مجاہدین کی مدد کی گئی اور امریکہ کی آشیرباد اور عملی مدد سے روس کو بالآخر افغانستان سے نکلنا پرا لیکن اس جنگ کے اثرات اب بھی افغانستان پر خانہ جنگی کی صورت منڈلا رہے ہیں۔ جنرل ضیاءالحق 1988ء میں طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔
میاں نواز شریف
جنرل ضیاءالحق کے کنٹرولڈ ڈیمو کریسی کے نظام میں جونیجو، بے نظیر، نوازشریف، بے نظیر کے بعد جب نواز شریف دوسری بار وزیراعظم بنے تو وہ طاقتور ترین حکمران تھے۔ انہوں نے جنرل ضیاءالحق کے زمانے میں صدر کو اسمبلی توڑنے کے اختیار کو آٹھویں ترمیم ختم کر کے بے اثر کر دیا۔ صدر کے اختیارات وزیراعظم کو منتقل ہو گئے، ارکان پارلیمنٹ کے اختیارات محدود ہو گئے، سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات بنائے گئے، بے نظیر بھٹو کو کرپشن کے ایک مقدمے میں سزا سنائی گئی۔
نواز شریف جب دوسری بار اقتدار میں آئے تو انہیں بھاری مینڈیٹ ملا، تاہم انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو ٹارگٹ بنائے رکھا۔ جبکہ اپنی پارٹی کے کسی رکن کا احتساب نہ کیا۔ نواز شریف کے دور میں جنرل جہانگیر کرامت نے نیشنل سیکورٹی کونسل کے قیام کی ضرورت پر ایک تقریر کی تو انہیں استعفٰی دینے پر مجبور کر دیا گیا۔ بعدازاں جنرل پرویز مشرف کو ہٹا کر جنرل ضیاء الدین کو چیف آف آرمی چیف بنانے کی کوشش کی گئی۔ جنرل پرویز مشرف کے طیارے کو پاکستان میں نہ اترنے کا حکم دیا گیا جس پر بالآخر فوج نے اقتدار سنبھال لیا۔
پرویز مشرف
جب 12 اکتوبر 1999ء میں نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو ہٹا کر آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل خواجہ ضیا الدین کو نیا آرمی چیف مقرر کرنا چاہا، اس وقت جنرل پرویز مشرف ملک سے باہر ایک سرکاری دورے پر گیے ہوئے تھے اور ملک واپس آنے کے لیے ایک کمرشل طیارے پر سوار تھے۔ تب فوج کے اعلی افسران نے ان کی برطرفی کو مسترد کر دیا اور جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کے اقتدار کا تختہ الٹ کر ان کو معزول کر دیا اور ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی اور تین سالوں میں الیکشن کروانے کا وعدہ کیا۔
20 مئی 2000ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے جنرل پرویز مشرف کو حکم دیا کہ وہ اکتوبر 2002ء تک جنرل الیکشن کروائیں۔ اپنے اقتدار کو طول دینے اور محفوظ کرنے کی غرض سے انہوں نے 30 اپریل 2002ء میں ایک صدارتی ریفرینڈم کروایا۔ جس کے مطابق 98 فیصد عوام نے انہیں آئندہ 5 سالوں کے لیے صدر منتخب کر لیا۔ البتہ اس ریفرینڈم کو سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے مسترد کر دیا اور اسکا بائیکاٹ کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کے راستے میں آنے والے بہت سے عہدیداروں کو بھی ہٹایا جن میں سپریم کورٹ کےجج حضرات اور بلوچستان پوسٹ کے ایڈیٹر بھی شامل ہیں۔
اکتوبر 2002ء میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ق نے قومی اسمبلی کی اکثر سیٹیں جیت لیں۔ یاد رہے کہ یہ جماعت اور جنرل پرویز مشرف ایک دوسرے کے زبردست ہامی ہیں۔ دسمبر 2003ء میں جنرل پرویز مشرف نے متحدہ مجلس عمل کے ساتھ معاہدہ کیا کہ وہ دسمبر 2004 تک وردی اتار دیں گے۔ لیکن وہ اپنے اس وعدے پر پورا نہیں اترے جن کا انہوں نے پوری قوم کے سامنے وعدہ کیا تھا۔ اس کے بعد جنرل پرویز مشرف نے اپنی حامی اکثریت سے قومی اسمبلی میں سترھویں ترمیم منظور کر والی جس کی روح سے انہیں با وردی پاکستان کے صدر ہونے کا قانونی جواز مل گیا۔ اور یوں صدر جنرل پرویز مشرف ملک کے طاقتور ترین حکمران بن گئے۔ ان کا دور حکمرانی تاحال جاری ہے۔ 6 اکتوبر کو صدارتی الیکشن ہونے جا رہے ہیں اور صدر مشرف وردی سمیت ایک بار پھر صدارتی امیدوار ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر وعدہ کیا ہے کہ وہ صدارتی الیکشن کے بعد وردی اتار دیں گے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کہانی آگے کیا رخ اختیار کرتی ہے، اس کے انجام کے لئے مجھے اور آپ سب کو انتظار کرنا ہو گا۔
By: Mohammad Zia on November 12, 2007
at 3:07 pm
۔ اس میں صدر پاکستان کی جی بھر کر بےعزتی کی گئی ہے۔ عام پاکستانیوں کے برعکس مجھے اس پر افسوس ہوا۔ وجہ؟ یہ بتاتا ہے کہ صدر پاکستان کو کس قدر دباؤ کا سامنا رہا ہوگا۔ اگر ایک عام اخبار صدر پاکستان کو اس لینگوئج سے مخاطب کر سکتا ہے تو کیا وائیٹ ہاؤس کے بند دروازوں کے پیچھے صدر کو کچھ نہیں کہا جاتا ہو گا؟
بہر حال میں صدر کے مخالف ہوں اور میرا خیال ہے کہ صدر نے انٹرنیشل لیول پر جو کیا کیا وہ عوام کو کوئی سہولت نہ دے سکے جبکہ ان کے اپنے خرچے بہت ماشاءاللہ رہے۔ اس اخبار سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ صدر کے چل چلاؤ کا وقت ہے؟ کیا سچ مچ صدر ایک ایسا قدم اٹھا بیٹھے جس کو “ماسٹرز” کی حمایت حاصل نہ تھی اور نتیجتا اب صدر کے حصے بےتوقیری ہی ہے؟
By: Jahan Zaib Ali Qadri on November 12, 2007
at 3:10 pm
I think that General Musharraf deserves nothing better. The analysis of the Daily Telegraph is quite candid and puts everything in the most matter-of-the-fact manner.
Ever since General Musharraf siezed power, he has been making promises with the people only to break them later on. He has gathered criminals around him to run the affairs of the state and consequently, his own thinking has started reflecting the criminal mentality of his cohorts. The country is in a mess and there seems to be no hope for the wretcheds of this country. They have had enough of him and wish to see the last of him now.
By: Muhammad Tahir Mazari on November 14, 2007
at 9:00 am
With criminal military dictator Musharraf’s resignation the message should be loud and clear. It should be even louder since there will be no Bush-Cheney crooked duo to prop up illegitimate illegal unelected undemocratic power-grabbers in South Asia any longer. Under a most likely democratic US presidency in 2009 there will be major shift in US foreign policy. Things wouldn’t have changed much if Hillary Clinton had got the democratic nomination. In that case the Bush policy of muscle-flexing and propping up of military dictators and NGOs would have continued.
Placing the national ID under the home ministry and establishing a spying cell on politicians under the police even after having a ISI-styled DFI in Bangladesh is taking us back to the Musharraf days just after his overthrow of Nawaz Sharif unconstitutionally.
Are we actually backpeddling to the military days? Was this caretaker setup in 2007 a farce to deceive the people? In that case a violent overthrow of totalitarianism reminiscent of 1991 is imminent.
By: Mohammad Hussain on August 18, 2008
at 5:25 pm
Congratulations! Pakistan is back on the democratic track. The army has been the main culprit in all the ails including severance of East Pakistan in 1971.
The army or any army-backed civilian junta as in Bangladesh now is the worst option any country in South Asia can have. I am glad that a blockhead self-imposed, US-blessed dictator has finally been shown the way out. He should be tried for treason and overthrow of a democratically elected government (of Nawaz Sharif) in 1999.
By: Mohammad Ali on August 18, 2008
at 5:33 pm
I think Gen. Pervez Musharraf deserves much better; respect, merit and rational treatment. That is what we can give him to start with. No?
By: Shirazi on August 20, 2008
at 5:16 am