Posted by: Cash John Carter | November 5, 2007

Listen Musharraf! I will not give up

le_monde_musharraf_cartoon.jpgMusharraf declared a state of emergency in Pakistan on Saturday, ahead of a crucial Supreme Court ruling on his future as president, thrusting the country deeper into political turmoil as it struggles to contain spreading Islamic militancy. Seven Supreme Court judges immediately rejected the emergency, which suspended the current constitution. The government blocked all television transmissions in major cities other than state-run Pakistan TV, and telephone services in the capital, Islamabad, were cut. The chief of army staff has proclaimed a state of emergency and issued a provisional constitutional order, a newscaster on PTV said, adding that Musharraf would address the nation at 6 P.M. GMT.

I don’t understand one thing, You are the one-in- all ruler of Pakistan from last 8 years, prime minister is yours, army is yours, everything is a puppet in your hand, but still YOU FAILED……. You are a failure, you failed to govern the country and now you want to do what every other asshole military dictator have done with the Pakistan. Raping the constitution.

President Musharaf – you want to take back my freedom of speech and freedom of expression by imposing PCO. I am not giving up; I will continue to do it any available mean, I will continue to register my protest against your greed of power. My forefathers did not take bullets on their chests so a no-good military dictator can dictate us, they did so their children can live where they can enjoy basic human rights, freedom of speech, freedom of everything.

 

20071103213259mush_protest_203.jpgYou may think Pakistan may not survive without you, let me remind you, From Yahya to Zia, graveyard is full of people who thought the same…. Pakistan is there, these people are not. Just like any other militry dictator, you have learnt nothing from history. This time let the history teaches you the lesson in hard way.

 

I John Carter Cash, rebuff this PCO, because it conflicts with the very foundation of human rights, freedom of expression and the values this country built upon. This is the most condemnable act

Long Live Pakistan.

 


Responses

  1. There is no doubt. Musarraf want to stop the superme court and CJ becuase these were questioing him on his dirty agenda, musharraf is the worst leader Pakistan every have, you are right, let histroy teach him a lessons like histroy teachs to another gutter trash we know as Gen. Zia

  2. by the way CJ, i like this “You may think Pakistan may not survive without you, let me remind you, From Yahya to Zia, graveyard is full of people who thought the same….” – keep it up buddy!

  3. Pakistan indeed go back 100 years in past. this time for us to come out to the street and protest. we can’t be hijacked in the hand of generals
    those who take oath under PCO, are traitors. they will be dishonored by nation

  4. Another Black day in the history of pakistan. Wake up people, if you still want to sleep your generation will pay the price.
    John carter are you from karachi ?

  5. میری نظر میں حکومت نے اس ایمرجنسی سے درج ذیل اہداف حاصل کئے ہیں ، اور اگر آپ پچھلے ہفتے پر نظر ڈالیں تو یہ سب کچھ ایک کڑوی حقیقت کی طرح نظر آ جائے گا ۔
    ١ ۔ سب سے بڑا ہدف جو حکومت نے حاصل کیا وہ عوام کی اور میڈیا کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹا دی ، یعنی مہنگائی اور بجلی کے بحران سے
    ٢- دوسرا بڑا ہدف جو حکومت نے حاصل کیا ، میڈیا کو اسکی حیثیت یاد دلائی ، جو سر پھرے میڈیا کو بہت جلد سمجھ آ گئی ہے اور مزید سمجھ آ جائے گی جلد ہی
    ٣ – ملکی اور غیر ملکی سطح پر اس تاثر کو بھی ذائل کیا گیا ہے ، کہ پاکستان میں فوج حاکمیت سے الگ ہونا چاہتی ہے
    ٤ – سیاست دانوں میں انتشار پیدا کیا گیا ہے ، جس سے عوام مزید ان سے متنفر ہو چکے ہیں
    ٥ – اعلیٰ عدالتوں کو بھی بتا دیا گیا کہ انصاف وہ ہی ہوتا ہے جو حکومت چاہے
    ٦ – پولیس کو ایک بار پھر اسکی طاقت اور قوت سونپی گئی ۔ ۔ ۔ ۔
    ٧ – مغربی طاقتوں کو یقین دلا دیا گیا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے ، پاکستان کا ریموٹ کنٹرول انکے پاس ہی رہے گا
    ٨ – مغرب کو باور کروا دیا گیا کہ اصل دھشت گرد پاکستانی ہیں ، انکو قابو کر لو سارا عالم اسلام قابو میں آ جائے گا

    اور سب سے بڑی بات یہ کہ مغرب کو پتہ چل گیا ہے کہ وہ پاکستان سے صرف ایک آدمی کو قابو کر لیں باقی لوگ خود بخود قابو آ جاتے ہیں ، اور انکے بیک اپ بھی تیار ہو جاتے ہیں ۔ ۔ ۔
    اللہ ہم پر اپنا رحم کرے (آمین

  6. اکستان میں مارشل لاء کا نفاذ دراصل کوئی انہونی نہیں بلکہ یہی اس حکومت کا اصل چہرہ ہے اس طرح حکومت نے صرف اپنے منہ سے عسکری جمہوریت کا نقاب اتار پھینکا ہے

    سب سے پہلی غلط فہمی جس میں کم و بیش ہم سب گرفتار ہیں وہ یہ کہ پرویز مشرف تمام برائی کی جڑ ہے اور “گو مشرف گو“ ہماری جدو جہد کا مرکزی نکتہ ہونا چاہیے۔ میرے حساب سے یہ بھیانک غلطی ہے۔ پہلے بھی مختلف تبصروں اور بلاگز میں، میں نے یہ بات کی ہے کے پرویز مشرف ایک شخص نہیں بلکہ اسٹیٹس کو کا نمائندہ ہے اسے ہٹا کر آ پ کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہیں کرسکتے۔ موجودہ صورتحال کا سب سے اہم پہلو معاشی ہے۔ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی کتاب “ملٹری انک“ کے حقائق کے مطابق جس طرح پاکستانی فوج کے بنیادی مقاصد دفاع سے ہٹ کر معاشیات پہ مرتکز ہو چکے ہیں اس صورت حال میں اتنا طاقتور ادارہ کسی دوسرے خصوصا سویلین ادارے کا وجود برداشت ہی نہیں کر سکتا جو آگے آنے والے دنوں میں اسکی معاشی سلطنت کے لیے چیلنچ بن سکے یا کم از کم اسکے احتساب یا آڈٹ کا مطالبہ کر سکے۔

    نواز شریف دور میں آپ اسکی ہلکی سی جھلک دیکھ چکے ہیں جب پارلیمنٹ نے کسی حد تک طاقت حاصل کی اور وزیر اعظم نے براہ راست فوجی سربراہان کوآئینی اختیارات کے تحت رخصت کیا ( گو کے ان اقدامات پر بحث ہو سکتی ہے)۔ لیکن پارلمینٹ کی اس طاقت کو نہ صرف یہ کے عسکری انقلاب کے ذریعے کچل دیا گیا بلکہ پارلیمنٹ بحیثیت ادارہ اس وقت غالبا پاکستانی تاریک تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔

    موجودہ دور میں آپ نے عدلیہ کی صورت میں اسکی جھلک دیکھی جہاں عدلیہ نے اپنی آئینی طاقت کو استعمال میں لانا شروع کیا اور اس سے پہلے کے وہ بحیثیت ادارہ ملک میں فوج کے لیے کسی چیلنچ کا باعث بنتی اسکی بساط لپیٹ دی گئی۔ اس وقت ملک کی موجودہ صورت حال یہ ہے کہ ملک کے دو بڑے سویلین ادارے عدلیہ اور پارلیمنٹ سنگین بحران سے گزر رہے ہیں جہاں وہ فوج کا احتساب تو کجا اپنی بقا کی جنگ لڑنے کے قابل بھی نہیں۔ دوسری طرف میڈیا کو کچلنے کے لیے اقدامات زوروشور سے جاری ہیں اور اس میں کامیابی کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ ملک میں فوجی معیشت کو چیلنج یا صرف اسکی مالیت تک جاننے کے لیے کوئی سویلین ادارہ نہیں بچے گا۔

    حکومتی (فوجی مراعات یافتہ) حلقوں کی طرف سے الزام عائد کیا جاتا ہے کہ عدلیہ نے اپنی حدود تجاوز کیا اور ان چیزوں میں ملوث ہوئی جو عدلیہ کے کرنے کے کام نہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے ہمارے جیسی غریب قوم اتنا بڑا دفاعی بجٹ فوج کو بینک، لائیو اسٹاک، فارمنگ، لاجسٹک سیل، منرل واٹر، باربی کیو ہاؤسز، پرائیویٹ یونیورسٹیز اور منافع بخش ہاؤسنگ اسکیمز چلانے کے لیے دیتی ہے؟ سوال یہ ہے کہ یہ کس طرح کی منظم اور تربیت یافتہ فوج ہے جو قبائلیوں کے ہاتھوں یر غمال بن جاتی ہے؟ کیا فوج کی توجہ دفاع وطن کی طرف ہے بھی یا اس وقت فوج کی اولین ترجیح اپنی معاشی سلطنت کی حفاظت ہے جس کے لیے وہ تمام سویلین سیٹ اپ برباد کرنے اور خانہ جنگی کو ہوا دینے میں لگی ہوئی ہے؟‌ کیونکہ ایک عام پاکستانی کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ جو فوج تتر بتر قبائلیوں اور وار لارڈز تک سے جنگ کرنے کے قابل نہیں وہ لوگ کس طرح ایک منظم فوجی حملہ کا مقابلہ کر سکیں گے؟‌

    اس وقت آپ پاکستان سے باہر بھی ہر طرف جاری جنگ و جدل دیکھیں تو آپ کو اس کے پیچھے صرف معیشت اور منافع خوری نظر آئے گی۔ عراق جنگ ہو یا افغانستان کی جنگ دراصل تیل و قدرتی وسائل پر قبضہ اور بڑی بڑی کارپوریشنز کا تحفظ ہی درون خانہ مقصد خون خرابہ ہے۔

    ادھر سویلین اداروں کی مکمل بربادی اور انگریز کے نو آبادیاتی نظام کے تحت تربیت یافتہ فوج کے ہاتھوں یرغمال بنے پاکستانی عوام کو بقول کام نگار جاوید چوہدری صرف یہ فکر کھائے جارہی ہے کہ ٹی وی چینلز کب کھلیں گے۔ سیاستدانوں کا یہ عالم ہے کہ سب کو یہ فکر کھائے جارہی ہے کہ کسطرح فوجی حکومت سے کوئی ڈیل بنا کر انکی معاشی سلطنت میں داخل ہوا جائے۔ عوامی منظم سیاسی جماعتیں جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کا یہ حال ہے کہ ایک تو گویا مارشل لاء کی حامی اور دوسری سول نافرمانی کی تحریک۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ سول نافرمانی کی تحریک اس حکومت کے خلاف چلائی جاتی ہے جسکے روز مرہ معمولات سویلینز کی بنیاد پر چلتے ہیں۔ بجلی کا بل نہ دے کر آپ حکومت کو کیا نقصان پہنچا لیں گے یہ میری سمجھ سے بالا ترہے۔

    پھر ایک جانب مذہبی شدت پسندی ہے جس نے شمالی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور تازہ خبروں کے مطابق سوات میں نہ صرف واپڈا چلانے میں مصروف فوج کو شکست ہوچکی ہے بلکہ مقامی طالبان نے اپنے گورنر تک نامزد کر دیے ہیں۔ خدا نہ کرے کہ یہ عفریت بھی ملک کو اپنی لپیٹ میں لے کہ پاکستان جیسی قوم کی طالبانائیزیشن تاریخ کا انسانیت کے ساتھ بدترین مذاق ہوگا۔

    سوال حل کا ہے تو کم از کم میری سمجھ میں تو فی الحال کوئی حل نہیں آتا ۔۔ ہاں میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کے دس سال بات ہم پھر یہی سوال کر رہے ہوں گے کہ ٹی وی چینلز کب کھلیں گے ؟‌


Leave a response

Your response:

Categories