اگست کو يوم آزادی کی “بے جان اور مصنوعی جوش وخروش” سے منعقد کی گئی تقريبات کے دوران ايک ايسی تقريب کی خبر پر نظر پڑی جس کے مقررّ کا کہا ہوا ہر لفظ پاکستانی قوم کے زخمی دل پر مرہم کا کام دے رہا تھا۔اس تقريب کی خبر پڑھ کر ہر پاکستانی کو ايک ذ ہنی سکون حاصل ہوا۔اس تقريب کا انعقاد اور يہ تقرير بلا شبہ پاکستانی قوم کيلئے يوم آزادی کا سب سے بہترين تحفہ تھا۔اس قسم کی باتيں سننے کے لئے پاکستانی قوم کے کان ترس گئے تھے۔اس دن چيف جسٹس آف پاکستان جناب افتخار محمد چودھری نے سپريم کورٹ کی عمارت کے دوسرے فيز کا سنگ بنياد رکھا۔اس موقعہ پر انھوں نے اپنے خطاب ميں فرماياکہ!
“عدليہ ،وکلاء برادری اور سول سوسائٹی اب ملک ميں قانون کی حکمرانی ،آئين کی بالا دستی اور عدليہ کی آزادی ديکھيں گے۔پاکستان کے عوام کی جائز توقعات پر پورا اترنے کے لئے اس عدالت کو آئين کے ساتھ گہری اور حقيقی وابستگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔دستور وہ زنجير ہے جس نے رياست کے تينوں اہم ستونوں عدليہ،مقننہ اور انتظاميہ کوآپس ميں ملا رکھا ہے اور يہ بھی بتا ديا ہے کہ ان اداروں ميں سے ہر ايک کا دائرہ کار کيا ہے۔آئين کے محافظ کی حيثيت ميں سپريم کورٹ کی يہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس مقدس دستاويز کا تحفظ کرے اس کو محفوظ بنائے اور اس کا دفاع کرے۔عدليہ پر يہ ذمہّ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آئين کی سر بلندی،قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کے لئے کردار ادا کرے۔دستور پاکستان نے واضح طور پر سپريم کورٹ کے دائرہ اختيار اور فرائض کو بيان کر رکھا ہے۔آئين اور قانون کے سب سے بڑے فورم کی حيثيت سے ہماری يہ ذمہ داری ہے کہ رياست کے تينوں ستونوں کے درميان توازن بحال کريں اور برقرار رکھيں ۔اس بات کو يقينی بنائيں کہ جن اصولوں پر ملک کی بنياد ہے اور جو آئين ميں دئے گئے ہيں وہ مضبوط ہوں ۔قانون اور آئين کے احترام کا مضبوط کلچر قائم کريں اور لوگوں کے جائز حقوق بر قرار رکھيں ۔اس مشکل کام کو انجام دينے کے لئے سپريم کورٹ کو بار کا تعاون اور پاکستان کے عوام کی حمايت اور اعتماد درکار ہے۔بنچ اور بار ايک گاڑی کے دو پہيے ہيں ۔عدالتی نظام کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے دونوں کو ايک دوسرے کی ضرورت ہے۔اس نے جہاں ہميں تقويت فراہم کی ہے۔وہاں پر يہ احساس بھی اجاگر کيا ہے کہ انتہائی اعلی سطح پراختيارات کے استعمال کے ذريعے کئے گئے تمام اقدامات ملک کے بالا دست قانون (آئين)کے مطابق ہی ہوں گے۔عوام کو عدليہ سے بہت سی توقعات وابستہ ہيں ۔عدليہ کو ان توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرنا چاہيے۔بطور چيف جسٹس آف پاکستان ميری ہميشہ يہ کوشش ہو گی کہ قوم کی خدمت کروں ۔انہوں نے کہا کہ يہ قوم کا اجتماعی عزم اور خواہش کا نتيجہ تھا کہ پاکستان دنيا کے نقشے پر ايک قوم اور ملک کے طور پر ابھرا۔ہم خوش قسمت ہيں کہ ہماری قيادت ايک ايسے شخص کے ہاتھ ميں تھی جو کہ آئين اور قانون پر غير متزلزل يقين رکھتا تھا۔اس کے پيچھے بڑی عوامی قوت موجود تھی ليکن انھوں نے آئينی طريقے اختيار کرنے کا فيصلہ کيا۔ قومی تاريخ ميں بہت سے مواقع پرہم کو دو راستوں ميں سے کسی ايک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ايک وہ جو سختی سے آئين پر کاربند رہنے کا متقاضی ہواور دوسرامصلحت اور مجبوری کا ہے۔ايسے اہم موڑ پرہميں وہی راستہ اختيار کرنا چاہيے جو کہ قائد اعظم نے ہم کو دکھايا۔ يہ قوم کے سامنے ہمارا امتحان ہوگااور ہمارے مستقبل کے رحجانات کا تعين بھی کرے گا۔مجھے ڈر ہے کہ آئين اور اس کی روح سے انحراف ہميں بحيثيت قوم کمزور کردے گا۔ہميں آئين اور قانون کے اصولوں کی پابندی کرکے ايک قابل فخرقوم کی حيثيت سے زندہ رہنا سيکھنا چاہيے اور ايسی تاريخی غلطيوں سے قطع تعلق کرلينا چاہيے جو آزاد جمہوری قوم سے مطابقت نہيں رکھتيں ۔انہوں نے کہا کہ يوم آزادی پر ہميں قوم کی تعمير کی اس ذمہ داری کا عہد دہراناچاہيے جو عدالتی نظام کے ارکان کی حيثيت سے ہم پر عائد ہوتی ہے ۔چيف جسٹس نے کہا کہ 60 سال ايک بڑی مدت ہے ہم وقت کی قلت کا شکوہ کرکے اپنی ذمہ داريوں سے بر ی الذمہّ نہيں ہو سکتے”۔
چيف جسٹس کی يہ باتيں پڑھ کر ذہن کو ايک سکون ملا۔اگر يہ صورت حال قيام پاکستان کے بعد سے ہو تی تو آج پاکستان کی شناخت دنيا ميں ايک ناکام رياست کے طور پر نہ ہوتی۔ قيام پاکستان کے بعد ملک سامراجی تربيت يافتہ سول اور فوجی بيوروکريسی کے قبضے ميں چلاگيا (شايد ان طبقوں نے اس ملک کو اپنے لئے بنايا تھا۔)۔ جاگيردارو گماشتہ سرمايہ دار ان کے تلوے چاٹنے لگے۔ کسی نہ کسی طرح ان کے پھينکے ہوئے اقتدار کے چھيچھڑوں پر پلنے والے يہ طبقے اس ملک کی تباہی کا ذمہ دار تو تھے ہی۔ دو اور طبقے بھی حکمرانوں کی مدد کو آ گئے ۔ان دوطبقوں نے ان حکمرانوں کی نا جائز حکومتوں کو ايک اعتبار (crebility) بخشا۔يہ دو طبقے عدليہ اور مذہبی طبقہ اور جماعتيں تھيں ۔ جنرل مشرف کے دور کے اختتام پر يوں محسوس ہوتا ہے کہ عوام کے خلاف فوجی جنتا،ملا اور عدليہ کا يہ مقدس اتحادٹوٹ رہا ہے ۔
پاکستان کا قيام جنگ عظيم دوم کے بعد اس وقت عمل ميں آياجب سوويت يونين ميں سوشلسٹ جمہوريہ ايک بڑی طاقت بن چکی تھی۔جنگ ختم ہونے کے بعد يالٹا کانفرنس ميں سٹالن نے مشرقی جرمنی کے علاوہ بھی يورپ کی تقسيم ميں اپنا حصہ پورا وصول کيا۔اور اس طرح سرمايہ دار امريکہ ،برطانيہ اور فرانس کے منصوبے ناکام بنا دئيے۔ سوويت يونين کی ان کاميابيوں کو ديکھ کر امريکی اور برطانوی سامراج نے سوويت يونين کو ختم کرنے کا فيصلہ کيا اور اس طرح سرد جنگ کا زمانہ شروع ہوا۔
سوشلزم کے خلاف امريکی سامراج نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو بری طرح استعمال کيا۔اسلامی تحريکيں اس زمانے ميں عروج پر تھيں ۔مصر کی اخوان المسلمين ،جمال عبدالناصر کے سامراج دشمن انقلاب کے بعد وجود ميں آئی۔اسی طرح پاکستانی حکومت جو ابتداء ہی سے امريکی سامراج کی اتحادی تھی۔اس کی امداد کے لئے يہاں کی مذہبی قوتوں کو بھی ان کا اتحادی بنا ديا گيا۔سوشلسٹ کيمپ کے خاتمے کے بعد جب امريکی سامراج نے مذہبی قوتوں کی سر پرستی سے ہاتھ اٹھا دياتو يہ قوتيں اس کے خلاف ہوگئيں ۔اب امريکہ انتہا پسندی اور دھشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر مذہبی قوتوں کی بيخ کنی کرنا چاہتاہے۔اسی لئے ہم نے اپنا روايتی کردار ادا کرتے ہوئے امريکہ کے دشمن مذہبی قوتوں کے خلاف ايک جنگ شروع کر دی ہے ۔اس طرح ملا ملٹری الائنس پہلی دفعہ ٹوٹتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔قاضی صاحب کی جنرل مشرف مخالف احساسات کی بنيادی وجہ جمہوريت سے محبت نہيں بلکہ فوج کا نيا کردار ہے۔
پاکستان کی فوجی حکومت اتنی کمزور ہوچکی ہے کہ وہ ہر کام بزور کرنا چاہتی ہے۔چيف جسٹس کے خلاف جنرل مشرف کا اقدام لاشعوری طور پر ايک خوف کی وجہ سے کيا گيا۔ قوم کو جنرل صاحب کا شکريہ ادا کرنا چاہيے۔اگر وہ9 مارچ کو عدليہ کے خلاف خود کش حملہ نہ کرتے تو معلوم نہيں عدليہ اور فوج کا اتحاد کہاں تک چلتا۔جنرل صاحب کے اقدام سے عدليہ اور فوج کا اتحاد بھی ٹوٹ گيا اور اب جنرل صاحب کے ساتھ نہ عوام ہيں نہ مذہبی قوتيں اور نہ عدليہ۔اب اس گرتی ہوئی ديوار کو ايک دھکے کی ضرورت ہے۔يہی پيغام چيف جسٹس کی تقرير کا بھی ہے جو بلاشبہ يوم آزادی پر قوم کے لئے ايک بہترين تحفہ تھا۔ پاکستانی عوام ايسا ہی پاکستان چاہتے ہيں
Posted by: Cash John Carter | August 26, 2007
۔ پاکستانی عوام ايسا ہی پاکستان چاہتے ہي
Posted in Uncategorized
Leave a response
Categories
- Afghanistan
- Army
- Benazir
- Bhutto
- Blog
- Blogroll
- BUSH
- CJP
- Emergency
- General Pervez Musharraf
- Government
- India
- Islam
- Jihad
- Judge
- Karachi
- Mohammad
- MQM
- Musharraf
- Muslim
- Nawaz Sharif
- Pakistan
- Pakistan Peoples Party
- Pakistan Politics
- Politics
- Prophet
- Sherpao
- Sindh
- Supreme Court
- Taliban
- Uncategorized
- USA
- West
- Zardari
- Zia